Now Reading
بھارتیوں کیلئے بڑی گمبھیرتا سے سوچنے کی گھڑی

بھارتیوں کیلئے بڑی گمبھیرتا سے سوچنے کی گھڑی

منگت رام پاسله
سرمایه دارانهنظام کے تحت دنیا کی موجودہ بد حالی کو دیکھ کر اگر بده سرمایہ داری کے اندھے پجاری اب بھی اس لوٹ کھسوٹ والے ڈھانچے کی تعریفیں کرتے رہیں تو ان کی بے حسی اور کم عقلی پر صرف ترس ہی کھایا جاسکتا ہے۔

اس ڈھانچے کی بنیادی خصوصیت امیری اور غریبی کے فرق کا بے تحاشہ بڑھنا اور سرمایہ کا چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتے جاتا ہے۔ اس غیر انسانی نظام کے حامی اور مبلغ انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کو جائز قرار دیتے ہیں۔

یہ غربت کے مارے ہوئے لوگوں کو اپنے پچھلے جنموں کے برے اعمال کا پھل خاموشی سے بھگتے اور صبر کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور خوشحالی، آسودگی اور مسرت کے حصول کے لئے اگلے جنم تک انتظار کرنے کے نصیحت کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں جاری جنگیں سامراجیوں، ان کے زیر انتظام کثیر القومی کارپوریشنوں اور اسلحہ لابی نے صرف اور صرف اپنے منافع میں بے پناہ اضافہ کرنے ، دوسرے ممالک پر غلبہ قائم کرنے اور ان ممالک کے قدرتی اور انسانی وسائل پر قبضہ جمانے کی مذموم نیت کے تحت چھیڑی ہیں۔

ان جنگوں کے مضر اثرات کے باعث دنیا کے کروڑوں محنت کش اور متوسط طبقے کے لوگ، جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، سماجی سہولتوں میں بھاری کٹوتی،
اوقات کار میں اضافے اور مستقل ملازمت کی جگہ ٹھیکیداری نظام کے تحت معمولی اجرتوں پر کام کرنے جیسی مصیبتوں کا سامنا کر رہے ہیں، اب مزید نئی اور مہلک مشکلات میں گھر چکے ہیں۔ دوسری طرف مہلک ہتھیار اور گولہ بارود بنانے والے موت کے سود اگر مالا مال ہو رہے ہیں۔

بھارت چونکہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کا ایک اٹوٹ حصہ ہے، اس لئے یہاں کے لوگ بھی انہیں تمام مشکلات سے دو چار ہیں جن کا سامنا دنیا کی باقی عوام بالخصوص محنت کش طبقہ، کر رہا ہے۔ نئے حکمرانوں نے ملک کے عوام

کے ساتھ ایک اور بڑا دھو کہ بھی کیا ہے۔

انہوں نے آزادی کی جدو جہد کے دوران سامراج کے دلال بنے رہنے والے راجوں اور نوابوں کو اقتدار میں شریک کر لیا ہے۔ نتیجتاً عوام کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ، یعنی ملک کا جاگیردارانہ ڈھانچہ، چند معمولی تبدیلیوں کے ساتھ آج بھی برقرار ہے۔

غیر ملکی تجارتی معاہدوں میں سامراجیوں کی نامناسب شرائط تسلیم کر کے بھارتیہ مفادات، خصوصاً زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت و تجارت اور پر چون کاروبار کو بری طرح نظر انداز کرنے کی صورت میں ہم مودی حکومت کی
اسی عوام دشمن پالیسی کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔

اس طرز عمل کے تباہ کن اثرات روز بروز راکٹ کی رفتار سے بڑھتے ہوئے غیر ملکی قرضوں، دو طرفہ تجارت کے ناقابل برداشت خساروں، ڈالر کے مقابلے میں بھارتیہ کرنسی کی خطرناک گراوٹ وغیرہ کی شکل میں واضح محسوس کئے جاسکتے ہیں۔

اگر ہم امریکی دباؤ کو مسترد کر کے اپنی مرضی کے مطابق روس، ایران، و نیز ویلا وغیرہ سے سستا خام تیل خریدتے تو بے لگام مہنگائی ، ضروری اشیاء کی قلت اور کالا بازاری کی مار سے یقیناً محفوظ رہ سکتے تھے۔ یہی نہیں ، کھاد کی کمی اور بڑھتی قیمتوں کے ات باعث بھارتیہ کسان آج جو سزا بھگت رہے ہیں، ایران کے ساتھ پرانے اور خوشگوار تعلقات برقرار رکھ کر اس سے بھی بچا جا سکتا تھا۔

بڑھتے قرضے، زرمبادلہ کے ذخائر اور سرمایہ کاری میں بھاری کمی، در آمدات و برآمدات کے وسیع عدم توازن وغیرہ کو دیکھتے ہوئے بھارت کو دنیا کی تیسری بڑی معیشت اور وشو گورو بنانے کا مودی حکومت اور سنگھ۔ بی جے پی اینڈ کمپنی کا مضحکہ خیز اور انتہائی گمراہ کن پروپیگنڈہ سراسر کھوکھلا ثابت ہو رہا ہے۔

See Also

غلط پالیسیوں کے باعث ہونے والے بھاری نقصان کو چھپانے کے لئے حکومت اور اس کے اندھے حامی تیل کی قیمتوں میں دوسرے ممالک کے مقابلے کم اضافے کے
دعوے کرتے رہتے ہیں ۔ لیکن جھوٹ بولنے اور افواہیں پھیلا کر فسادات بھڑکانے کے ماہر یہ حضرات ان ممالک کے عوام کو ملنے والی اجرتوں اور دیگر سماجی سہولتوں کا ذکر تک نہیں کرتے جو بھارت کے عوام کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔

یہ بڑی مہارت سے اس سوال سے بھی بچ نکلتے ہیں کہ جب دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تھی تو اس وقت بھارت میں ڈیزل، پٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیوں کم نہیں کی گئیں؟

موجودہ مرکزی حکومت عوام کی فریاد سن کر ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے وسائل مہیا کرنے سے مکمل طور پر انکاری ہے۔

حکومت تو الٹا ہندو مسلم کے فرضی تنازعات کھڑے کر کے اقلیتوں کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کرنے، سماج کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے اور

عوام کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے میں مصروف ہے۔ بھارتیہ عوام کے لئے یہ انتہائی سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت ہے۔ کیا ہمیں ملک کو سامراجی لوٹ کھسوٹ کے نو آبادیاتی جال میں پھنسا کر عوام کی زندگی تباہ کرنے والی فرقہ وارانہ فسطائی قوتوں کا ساتھ دینا چاہئے یا پھر ملک کو سائنسی سوچ رکھنے والا ، معاشی طور پر خود کفیل اور عوام دوست ترقیاتی ماڈل بنانے کے جدید نظریے کی حامی قوتوں کی مدد کرنی چاہئے؟ ہمارا یقین ہے کہ عوام درست فیصلہ کریں گے، کیونکہ بالآخر عوامی طاقت ہی سب سے زیادہ مضبوط اور فیصلہ کن ہوتی ہے۔

ہند سماچار سے شکریہ کے ساتھ

Scroll To Top